بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کوئی مفلس ہوکر مرجائے تو اس کے قرض کا مطالبہ کس سے ہوگا؟

سوال

ایک مفلس شخص مرجائے اور اس کے ذمے دین ہو اور اس کا کوئی بھی نہ تو دین کا مطالبہ کس سے ہوگا؟

جواب

اگر کوئی مفلس ہوکر مرجائے ، وراثت میں پیچھے کوئی مال یا سامان  نہ چھوڑے اور کسی نے  اس کی  طرف سے دَین کی ادائیگی  كي ذمہ داری  بھی نہ اٹھائی ہو تو اس کے دین کا مطالبہ کسی نہیں ہوگا۔ بہتر ہے کہ قرض خواہ اس کو معاف کرے ؛ تاکہ اس کے لئے  آخرت میں آسانی ہو 

فتاوی شامی میں ہے:

"يعني: أن الدين يسقط عن الميت المفلس إلا إذا كان به كفيل حال حياته أو رهن".

(حاشية ابن عابدين على الدر المختار: كتاب الكفالة (5/ 312)، ط. سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100290
تاریخ05-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں