بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تکبیر تحریمہ کا حکم

سوال

تکبیر تحریمہ ثناء کی سنت ہے ، یا قراءت کی سنت ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

 واضح رہے کہ تکبیر تحریمہ نماز  کے فرائض میں سے ہے ،جس کے بغیر نماز شروع ہی نہیں ہوتی ،یہ  سنت نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) التحريمة وهي تكبيرة الافتتاح وإنها شرط صحة الشروع في الصلاة عند عامة العلماء."

(کتاب الصلوۃ ،فصل فی شرائط ارکان الصلوۃ،130/1،ط:دار الکتب العلمیۃ)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"الباب الثالث في شروط الصلاة)وهي عندنا سبعة: الطهارة من الأحداث، والطهارة من الأنجاس، وستر العورة واستقبال القبلة والوقت والنية والتحريمة."

(کتاب الصلوۃ ،الباب الثالث ،58/1،ط:مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100244
تاریخ04-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں