نانی کادودھ پیا تو کیا ماموں کی بیٹی سے شادی ہوسکتی ہے؟
سوال
زید نے مدتِ رضاعت میں اپنی نانی کا دودھ پیا ہے ،تو کیا وہ اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر زید نے مدتِ رضاعت میں اپنی نانی کا دودھ پیا ہے توزید کے ماموں کی بیٹی اُس کی رضاعی بھتیجی ہے،لہٰذا زید کااُس سے نکاح نہیں ہوسکتا، کیوں کہ جس طرح نسبی بھتیجی سے نکاح کرنا جائز نہیں ، اسی طرح رضاعی بھتیجی سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں۔
عنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
"قال: (ويحرم من الرضاع ما يحرم من النسب لما روينا) من قوله - عليه الصلاة والسلام -: " يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب"."
(كتاب الرضاع، يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، 446/3، ط: دارالفکر)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"(القسم الأول المحرمات بالنسب)، وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت."
(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الأول المحرمات بالنسب، 273/1، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

