بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رعل وذکوان پر بد دعا کے متعلق روایت کی اسنادی حیثیت

سوال

نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کا قبیلہ رعل اور ذکوان پر دعا ئے ضرر کرنا، اس حدیث کا حکم کیا ہے؟ یہ  حدیث ، صحیح ہے  یا حسن   ہے یا غریب  ہے؟ محدثین کے اقوال کی روشنی میں رہبری فرمائیں۔ 

جواب

کتبِ ستہ اور دیگر کتب احادیث میں متفقہ طور صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ رعل اور ذکوان پر تيس سے چالس دن تک مستقل بد دعا فرمائی،جس کی وجہ یہ تھی کہ  ان قبائل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  میں سے سترایسے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین  کو دھوکہ دیکر ، ظلم اور بے دردی سے شہید کیا، جو سب کے سب قرآن کے حافظ اور داعی تھے،جبكہ وہ اس وقت بے سرو سامانی کی حالت میں  تھے۔ 

اختصار کی غرض سے صرف صحیحین کا حوالہ دیا جاتا ہے: 

(الجامع الصحيح، باب العون بالمدد،رقم الحديث: 3064، 4: 73، دار طوق النجاة.

صحيح مسلم، باب استحباب القنوت في جميع الصلاة إذا نزلت بالمسلمين نازلة، رقم الحديث: 677، 1: 468، دار إحياء التراث العربي - بيروت۔  )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100208
تاریخ04-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں