بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی رقم غریب کے استعمال میں لانا

سوال

سیونگ بینک اکاؤنٹ کی سود والی  رقم سے غرباء ومساکین کاموبائل ریچارج بلانیت ثواب کرسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،اور جس طرح سودی رقم کا استعمال کرنا حرام ہے اسی طرح سودی رقم کو وصول کرنا بھی حرام ہے، نیز بینک کی طرف سے اکاؤنٹ میں یہ رقم ڈالے جانے کے باوجود آدمی اس سودی رقم کا مالک نہیں بنتا ہے ، چناں چہ کسی بھی صورت اس سودی رقم کا اکاؤنٹ سے نکلوانا اور وصول کرنا ہی جائز نہیں ہے، چاہے اپنے استعمال کی نیت ہو یا کسی ضرورت مندفرد یا ادارے کو دینے کی نیت ہو۔

البتہ اگر   کسی شخص کو مسئلہ معلوم نہ تھا اور اس نے یہ رقم وصول کر لی ہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ پہلے تو وہ یہ کوشش کرے کہ جہاں سے یہ سودی رقم لی ہے اسی کو واپس کردے، لیکن اگر باوجود کوشش کے اسی شخص یا ادارے کو واپس کرنا ممکن نہ ہو تو پھر کسی ضرورت مند مستحقِ زکات غریب شخص کو  ثواب کی نیت کے بغیر   نقد رقم دے دے  اور پھر اس  کی مرضی وہ موبائل کے ریچارج میں استعمال کرے یا اپنی کسی اور ضرورت میں، لیکن اس رقم سے کسی غریب کے موبائل کاخود  ریچارج کرنا جائز نہیں۔

"ویردونها علی أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه."

(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ ، فصل في البیع ،6/ 385 ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100130
تاریخ02-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں