بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی طرف سے سبسڈی کا حکم

سوال

کیا حکومت حج پر سبسڈی دے سکتی ہے ؟

جواب

حجاجِ کرام کو حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کی رقم ایک عطیہ اور تبرع ہے، جس کے لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اور سبسڈی لے کر حج کرنے میں حج کی عبادت میں کسی طرح کی خرابی نہیں آتی۔

فتاوى هندية میں ہے:

"قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - اختلف الناس في أخذ الجائزة من السلطان، قال بعضهم: يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من حرام، قال محمد - رحمه الله تعالى -: و به نأخذ ما لم نعرف شيئًا حرامًا بعينه ، وهو قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وأصحابه ، كذا في الظهيرية."

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، جلد5 ص:342، ط:دار الفکر)

المحيط البرهاني میں ہے:

"وعن علي رضي الله عنه: أن السلطان يصيب من الحلال والحرام، فإذا أعطاك شيئاً فخذه، فإن ما يعطيك حلال لك."

(الفصل السابع عشر في الهدايا والضيافات، كتاب الاستحسان والكراهية، جلد5 ص:367، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100121
تاریخ02-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں