بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے کفن کا انتظام کس پر ہے؟

سوال

 میں نے دیکھا یہاں کسی لڑکی کی وفات ہوتی ہے تو اس کا کفن اس کے میکے والے لے کے آتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ نہیں ہے تو پھر بھی ایسا کرنا درست ہے؟ بیوی اپنے شوہر کے گھر کا کفن کیوں نہیں پہن سکتی؟

جواب

واضح رہے کہ  متوفیہ بیوی کے کفن  ودفن کا انتظام شوہر کے ذمہ ہے نہ کہ میکے والے پر، البتہ اگر میکے والے   ثواب کی نیت سے کفن دفن کا انتظام کرنا چاہیں اور شوہر راضی ہو  تو  شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر شوہر اجازت نہ دے تو میکے والوں کا اصرار کرنا غلط ہے۔

شامي ميں ہے:

"واختلف في الزوج، والفتویٰ عی وجوب کفنہا علیه عند الثاني، وإن ترکت مالاً (الدر المختار) …  أنه یلزمه کفنہا وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ".

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، 2/ 206، ط: سعيد)

فتاوی  ہندیۃ میں ہے:

"یجب الکفن علی الزوج وإن ترکت مالاً وعلیه الفتویٰ".

(کتاب الصلاۃ،  الباب الحادي والعشرون في الجنائز، 1/ 141، ط: رشيدية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100108
تاریخ02-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں