بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادھار خریدے گئے ٹریکٹر کو آگے فروخت کرنے کا حکم

سوال

بائع نے ٹریکٹرادھار پرفروخت کیا پھر مشتری کے لے دوسری آدمی پر فروخت کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مشتری کے لیے قبضہ کرنےکے بعد ادھار پر خریدے گئے ٹریکٹر کو آگے فروخت کرنا شرعا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها القبض في بيع المشترى المنقول."

(کتاب البیوع باب اول ج نمبر ۳ ص نمبر ۳، دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل كذا في البدائع وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه فلا ينعقد بيع الكلإ ولو في أرض مملوكة له ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده إلا السلم."

(کتاب البیوع باب اول ج نمبر ۳ ص نمبر ۲، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100104
تاریخ02-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں