بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش میں رقم منتقل کرنے پر دکان دار کے گاہک سے اجرت لینے کا حکم

سوال

میری موبائل شاپ ہے، اور میں جاز کیش کا کا کرتا ہوں اور اس رقم پر کمپنی ہمیں کمیشن دیتی ہے ، کچھ دنوں سے کمپنی نے کمیشن کم کردیا ہے، اس وجہ سے دکان داروں نے لوگوں سے رقم وصول کرنا شروع کردی ہے اور اسے سروس چارج کا نام دینا شروع کردیا ہے حالانکہ کمپنی کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ اس صورت میں لوگوں سے اس طرح  رقم وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب دکان دار کے لیے کمپنی کی طرف سےرقم منتقلی پر کمیشن طے ہے   اور  گاہک سے اضافی رقم لینے پر پابندی ہے تو دکان دار کا رقم منتقل کرنے عوض گاہک سے اضافی رقم لینا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا، فذاك حرام عليهم."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في اجرة الدلال، 6/ 63، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100084
تاریخ02-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں