بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے بال کاٹنے کا حکم

سوال

کیا عورت کے آگے سے بال کٹوانا جائز ہے ،اگر فور ہیڈ بہت بڑا ہو؟

جواب

 واضح رہے کہ گھنے اور لمبے بال عورتوں کے لیے باعث زینت ہیں،اور آسمانوں میں بعض فرشتوں کی تسبیح   ہے:'پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو داڑھی سے زینت بخشی ہے اورعورتوں کو چوٹیوں سے '۔عورتوں کابلاعذر کے سر کے بالوں کو کاٹنااور مردوں کی مشابہت اختیار کرناناجائز ہے ،ایسی عورتوں پررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے لعنت فرمائی ہے۔مشکاۃ شریف کی روایت میں ہے:'حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیارکرتے ہیں اور ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں'۔

البتہ اگر شرعی عذر ہو مثلاً : علاج کی غرض سے بال کٹوانے ہوں یابال اتنے طویل ہوجائیں کہ سرین سے بھی نیچے ہو جائیں اور عیب دار معلوم ہوں تو فقط زائد بالوں کاکاٹناجائز ہوگا۔حاصل یہ ہے کہ عورتوں کے لیے شرعی عذر کے بغیر بال کاٹنا شرعا جائز نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولو ‌حلقت ‌المرأة ‌رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به وإن فعلت ذلك تشبها بالرجل فهو مكروه كذا في الكبرى."

(کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشر فی الختان والخصاء۔۔۔الخ،ج:۵،ص:۳۵۸،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100080
تاریخ01-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں