بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرکت فاسدہ کی ایک صورت کا حکم

سوال

میں نے ایک کاروبار شروع کیا ہے میزان کوکنگ آئل کی ڈسٹری بیوشن کا ،پارٹنر شپ کے حساب سے ،مجھے وہ ماہانہ دس فیصد دے گاماہانہ سیل کے عوض ،تو کیا یہ حلال ہے یا نہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں شرکت کی مذکورہ صورت درست نہیں ،اس معاملہ کے صحیح ہونے کی شرعاً دو صورتیں ہوسکتی ہیں :

  1. پہلی صورت یہ ہے کہ سائل بھی مذکورہ کمپنی کے ساتھ اپنا کچھ سرمایہ لگائے ،اس صورت میں سائل اور مذکورہ کمپنی کے درمیان شرکت ہوجائے گی ،اور نفع سرمایہ کے حساب سے دونوں کے مابین تقسیم کیا جائے گا ،البتہ سائل چوں کہ عمل بھی کرے گا  تو اس کے عوض سائل کے لیے اس سے زائد رقم لینا بھی درست ہوگا ۔
  2. دوسری صورت یہ ہے کہ سائل مذکورہ کمپنی کے ساتھ بطور اجارہ کام کرے اور اجرت طے کرکے ماہانہ رقم  وصول کرے تو یہ صورت بھی جائز ہے۔نیز اگر فیصد کے اعتبار سے اجرت طے کرے تو اس کی بھی گنجائش ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولودفع دابة إلى رجل ليبيع عليها البز والطعام على أن الربح بينهما كانت الشركة فاسدة بمنزلة الشركة بالعروض، وإذا فسدت كان الربح لصاحب الطعام والبز ولصاحب الدابة أجر مثلها، والبيت والسفينة في هذا كالدابة، هكذا في فتاوى قاضي خان۔"

(کتاب الشرکۃ،الباب الخامس فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج:۲،ص:۳۳۴،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144311100067
تاریخ01-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں