بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج فرض ہوگیا تو شادی کا انتظار کر کے بیوی کے ساتھ جانا ضروری نہیں

سوال

اگر میرے پاس حج پر جانے کا خرچہ چند ماہ یا ایک سال میں آجائے اور میری منگنی ہوئی ہے تو کیا مجھے اپنی شادی کا انتظار کر کے بیوی کو بھی ساتھ لے جانا لازم ہے یا مجھے ابھی خود سے جاکر حج کرلینا چاہیے؟

جواب

صورت مسئولہ میں آپ پر شادی کا انتظار کرنا اور بعد میں بیوی کے ساتھ جانا لازم نہیں ہے، اگر آپ کے پاس اتنے پیسے جمع ہوگئے ہیں کہ آپ پر حج فرض ہوگیا ہے تو آپ اکیلے جاکر حج ادا کریں    اگر شادی سے پہلے حج فرض ہونے کے بعد حج کا موقع ملا اور حج نہیں کیا اور بعد میں حج کرنے سے پہلے موت ہوگئی تو حج نہ کرنے کی صورت میں حج بدل کی وصیت کرنی ضروری ہو گی،اور بروقت حج نہ کرنے میں خود تاخیر کی ، کوشش ہی نہ کی تو گناہ ہوگا۔

اللباب في شرح الكتاب  میں ہے :

" (واجب) : أي فرض في العمر مرة"

(كتاب الحج، ج1، ص178، المكتبة العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100057
تاریخ01-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں