بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زنانہ کپڑوں کا کاروبار کرنا

سوال

دوبئی میں زنانہ کپڑوں کا کاروبار صحیح یا نہیں عورتوں کا آنا جانا ہوتا ہے کیا یہ کمائی  حلال ہے یا حرام؟

جواب

زنانہ کپڑوں کا کاروبار  فی نفسہ شرعا جائز ہے   اور اس کی آمدنی حلال ہے ،البتہ چوں کہ عورتوں کی آمد ورفت  ہوتی ؛ ا س لئے اپنے دل اور نگاہ  کی حفاظت بہت ضروری ہے،بصورت دیگر  یہ دل و دماغ کا گناہ ہوگا،اگر اس کاروبار کی وجہ سے  کسی  فتنے  میں مبتلا ہونے کاخوف ہو تو متبادل کوئی کا م اختیار کرے۔

موسوعة الفقه الإسلامي میں ہے:

"القاعدة التاسعة: الأصل في الأشياء الإباحة.فكل ما خلق الله الأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد دليل يحرمه.

وكل ما صنع الإنسان من الآلات والأجهزة فالأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد فيه دليل يحرمه.

فالأصل الإباحة في كل شيء، والتحريم مستثنى."

(القاعدة التاسعة، ج:2، ص:293، ط:بيت الافكار الدولية)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100023
تاریخ01-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں