بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سسرال والوں کی ناراضگی کا حل

سوال

میری والدہ کا ابھی پندرہ دن پہلے انتقال ہوا ہے ، انتقال سے پہلے میری والدہ میری بیوی سے ناراض تھیں، اس سے مراد بات چیت نہیں تھی، کوئی کام نہیں کرواتی، ناراضگی تھی، میری بیوی نے کئی دفعہ معافی مانگی تھی، لیکن انہوں نے معاف نہیں کیا،  شادی کے 3 سال بعد140گز کے گھر کے اندر دیوار کھڑی ہوئی، وہ انتقال کر گئے جس کی وجہ سے میری تمام بہنیں اور میرے والد میری بیوی سے قطع رحمی اختیار کی ہوئی ہے، آپ بتائیں کیا حل ہے، میں بہت پریشان ہوں، میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی اہلیہ کو چاہیے کہ سب کے جائز حقوق اداکریں اورجائز کاموں میں ان کی بات مانا کریں، سب سے عاجزی سے پیش آئیں، خدمت کے ذریعے ان کو راضی کرنے کی کوشش کریں، اگر غلطی ہوئی تو معافی مانگنے سے گریز نہ کریں۔

باقی سائل کی والدہ سے سائل کی اہلیہ  چوں کہ معافی مانگ چکی ہیں، لہٰذا اب ان کو اس حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے ، ہاں جتنا ہو سکے اپنی ساس کے لیے ایصالِ ثواب کرتے رہیں، ان شاءاللہ اس سے ان کی روح کو بھی فرحت ہوگی۔

سائل کی بہنوں اور والد کو بھی چاہیے کہ اس سلسلے  میں  معافی اور درگزر سے کام لے کر صلہ رحمی سے کام لیں۔

نیز کسی پابندِ شریعت صاحبِ علم وتجربہ سے اپنے معاملات میں راہ نمائی لیتے رہیں، ان کے مشورے سے چلیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101583
تاریخ31-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں