بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے وقت طے شدہ رقم اور سونا جو دلہن کو دیا وہ اس کی ملکیت ہے

سوال

ہمارے مسعود قوم جب شادی کرتے ہیں تو دلہن والے یہ مانگتے ہیں کہ 3 لاکھ روپے اور 2 تولے یا 3 تولہ سونا ہم کو دینا ہوگا،تو جب شادی ہو جاتی ہے تو شادی کے بعد اگر دلہن کے سسرال والے دلہن کا سونا استعمال کرنا چاہیں یا بیچنا چاہیں،  کیا وہ بیچ سکتے ہیں؟ اور اگر اس کا نرینہ اولاد ہو تب بھی استعمال کر سکتے ہیں  یا بیچ سکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں شادی کے وقت جو رقم یا سونا لڑکے والوں کی طرف سے دلہن کو بطورِ ملکیت دیا جاتا ہے، دلہن کی رضامندی اور اجازت کے بغیر لڑکے والوں کے لیے اسے استعمال کرنا یا بیچنا جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ اب دلہن کی ملکیت میں ہے۔ نرینہ اولاد ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں  میں یہی حکم ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية".

(كتاب النكاح،الباب الثاني، الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج:1، ص:327، ط: دارالفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101577
تاریخ31-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں