بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہانہ خرچہ کے لیے دی جانے والی رقم کاحکم

سوال

میری والدہ مہینے کے 1500 روپے کرائے کے  لیے دیتی ہیں اور میں نے ایک لڑکے کو ہزار روپے دیے ہیں،  وہ مجھے گھر چھوڑ دیتا ہے،  500 روپے بچ گئے،  والدہ کو اس بات کا علم ہے،  ان روپیوں کا کیا حکم ہے؟  کیا والدہ کو واپس کرنا ضروری ہے؟  پچھلے سال مجھے میرا بھائی چھوڑتا تھا تو کافی روپے بچ جاتے تھے، اس کا میری والدہ کو پتہ تھا۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل کی والدہ کرائے کے  لیے مہینے کے پندرہ سو روپے دیتی ہیں  تو  یہ پیسے والدہ کی طرف سے سائل کے  لیے ہدیہ ہیں،  ان پیسوں میں سے کچھ پیسے بچ گئے ہیں تو یہ سائل ہی کی ملکیت ہیں ،  سائل  ان کو  اپنے مصارف میں خرچ کر سکتا ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."

(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: دار الفكر بيروت)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له."

(كتاب الهبة، الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها، ج: 4، ص: 374، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144310101461
تاریخ30-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں