بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع کی کاروائی مکمل ہونے سے پہلے دوسری جگہ نکاح کرنا

سوال

اگر عورت نے عدالت میں خلع کو مقدمہ کیا ہو اور مقدمہ زیر کار ہو عدالت میں تو عورت دوسری  جگہ نکاح کر سکتی ہے؟ اور اگر دوران مقدمہ فیصلہ ہونے سے پہلے ہی نکاح دوسری جگہ  کر لے تو کیا یہ نکاح اسلامی نقطہ نظر سے صحیح ہوگا؟

جواب

شوہر کے موجود ہوتے ہوئے، شوہر سے طلاق یا خلع لیے بغیرعورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا حرام اور ناجائز ہے، لہذا اگر کسی عورت نے شوہر کی موجودگی میں اس سے طلاق یا خلع لیے بغیر دوسرا نکاح کیا تو یہ نکاح شرعاً ناجائز اورباطل ہے، یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا ۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی جب تک کے خلع کی کاروائی مکمل نہ ہوجائے اور اس کی عدت نہ گزر جائے۔

 المبسوط للسرخسي میں ہے:

"ونكاح المنكوحة لا يحله أحد من أهل الأديان". 

(10 / 163ط:دارالفکر،بیروت)

 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے: 

" ( فصل ): ومنها أن لاتكون منكوحة الغير، لقوله تعالى : { والمحصنات من النساء } معطوفًا على قوله عز وجل: { حرمت عليكم أمهاتكم } إلى قوله : { والمحصنات من النساء } وهن ذوات الأزواج ، وسواء كان زوجها مسلمًا أو كافرًا".

(فصل أن لا تكون معتدة الغير، کتاب النکاح، 5 / 446،ط: دار الکتب العلمیۃ،بیروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101448
تاریخ30-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں