بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چھٹی کے ایام میں ملنے والی تنخواہ کا حکم

سوال

کیا مجھے چار مہینے کی چھٹی لےکر تبلیغ میں  جانے پر جو   تنخواہ ملے گی وہ میرے لئے جائز ہے؟ حالانکہ میری جگہ پر کوئی بندہ کام نہیں کر رہا ہوگا۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائل جس ادارے/ محکمے میں ملازم ہے، اگر اس ادارےاور محکمے کا ضابطہ یہی ہے کہ اگر کوئی ملازم رخصت پر ہو تو اسے ان رخصت کے ایام کی بھی تنخواہ ملے گی تو سائل کے لیے مذکورہ ایام کی تنخواہ لینا جائز ہے۔

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحاً حرم حلالاً أو أحل حراماً، والمسلمون على شروطهم إلا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً» . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله: «شروطهم»".

(باب الافلاس والانظار، الفصل الثانی، ج: 1، صفحہ: 253، ط:   قدیمی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101377
تاریخ29-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں