بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقدِ نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے طلاق ہوجائے تو ساس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

سوال

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے طلاق ہوجائےتو کیا ساس سے نکاح ہوسکتا ہے؟

جواب

عقدِ نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے طلاق ہوجائے تو ساس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں؛ عقد کے ساتھ ہی لڑکی کی ماں لڑکی کے شوہر پر حرام ہوجاتی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أما أمها فحرمت عليه بمجرد العقد، ط."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات  3/ 35، ط. سعيد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والثالث: أم المرأة، فإن من تزوج امرأة حرمت عليه أمها، ثبت بقوله تعالى {وأمهات نسائكم}، وهذه الحرمة تثبت بنفس العقد عندنا."

(كتاب النكاح 4/ 199، ط.دار المعرفة - بيروت، الطبعة: 1414هـ = 1993م)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101277
تاریخ28-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں