بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سٹیٹمنٹ زیادہ دکھانے کے لیے رقم رکھنا اور اس پر نفع حاصل کرنے کا حکم

سوال

سٹڈی ویزہ پر لندن جانے کے لئے( 50 )لاکھ روپے بینک سٹیٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جو کہ ہر شخص کے پاس نہیں ہوتے، اس سٹیٹمنٹ کو بنانے کے لئے مختلف ایجنٹ ہوتے ہیں،  جو اپنی رقم امیدوار کے اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں ایک مہینے کے لئے، تاکہ اس کا اسٹیٹمنٹ بن جائے، بعد میں وہ اپنی رقم نکال لیتے ہیں ، اور امیدوار سے اس سروس کے چارجز بھی لیتے ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ ایسی بینک سٹیٹمنٹ پر رقم دینا سود کے ضمن میں آتا ہے یا کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  کسی شخص کا بینک سٹیٹمنٹ  زیادہ دکھانے کے لیے اس کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرکے اس پر سروس چارجز کے نام سے نفع لینا جائز نہیں ہے۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني" میں ہے:

"ذكر محمد رحمه الله في كتاب الصرف عن أبي حنيفة رضي الله عنه: أنه كان يكره كل قرض فيه جر منفعة، قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد".

(الفصل التاسع والعشرون في القرض ما يكره من ذلك، وما لا يكره، ج:5، ص:394، ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101269
تاریخ28-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں