بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازمین کا مراعات وصول کرنا

سوال

میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، یہاں ماہانہ تنخواہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ملتا، جب کہ سال کا کم سے کم ایک بونس، سالانہ چھٹیوں کے پیسے، پراویڈنٹ فنڈ وغیرہ حکومت کے قانون کے تحت دینا ضروری ہوتا ہے،ایسی صورت میں کمپنی مالکان گناہ گار نہیں ہوں گے کیا؟ اور ملازم ہونے کی حیثیت سے اپنے حق کے یے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر حکومتی قوانین کے اعتبار سے کمپنی کا اپنے ملازمین کو  سال کا کم سے کم ایک بونس، سالانہ چھٹیوں کے پیسے، پراویڈنٹ فنڈ وغیرہ  دینا لازم ہے تو کمپنی کو اس قانون کی پاس داری کرنا ضروری ہے، کیوں کہ کمپنی انہیں قواعد کے مطابق اپنے ملازمین کا تقرر کرتی ہے،اس صورت میں کمپنی مالکان اگر اپنے ملازمین کو یہ مراعات نہ دیں تو وہ گناہ گار ہوں گے، لیکن اگر ملازمین کی تقرر کے وقت کمپنی والے اس بات کی صراحت کردیں کہ وہ ملازمین کو یہ مراعات نہیں دیں گےتو کمپنی انہیں یہ مراعات دینے کی پابند نہیں ہوگی، کمپنی کے مالکان گناہ گار نہیں ہوں گے۔

المعجم الکبیر میں ہے:

"عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «المسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا، وأحل حراما، والصلح جائز بين الناس، إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا»."

( عمرو بن عوف بن ملحة المزني، جلد 17 ص:22 ط: مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101155
تاریخ25-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں