بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صف میں نابالغ طلبہ کہاں کھڑے کیے جائیں؟

سوال

 ہماری مسجد میں فجرکی نماز کے وقت نمازی بہت کم ہوتے ہیں، حفظ کے بچے بھی  نماز پڑھتے ہیں ،  ان میں نابالغ بھی ہیں ،تعداد45 ہے، صف بندی کیسے کی جائے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بالغ طلبہ کو صفِ اول میں مردوں کے ساتھ کھڑا کیا جائے اور نابالغ طلبہ کی صف مردوں اور بالغ طلبہ کی صف کے پیچھےبنائی جائے،یہی بہتر ہے۔

البحرالرائق شرح کنز الدائق میں ہے:

"(قوله: ويصف الرجال ثم الصبيان ثم النساء)؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: ليليني منكم أولو الأحلام والنهى...و لم أر صريحًا حكم ما إذا صلى ومعه رجل و صبيّ، و إن كان داخلاً تحت قوله: "و الاثنان خلفه" و ظاهر حديث أنس أنه يسوي بين الرجل و الصبي و يكونان خلفه؛ فإنه قال:  فصففت أنا و اليتيم وراءه، و العجوز من ورائنا، و يقتضي أيضًا أن الصبيّ الواحد لا يكون منفردًا عن صف الرجال بل يدخل في صفهم، و أن محلّ هذا الترتيب إنما هو عند حضور جمع من الرجال و جمع من الصبيان فحينئذ تؤخر الصبيان."

( كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:  3، صفحہ:  416  ،ط:  دار الفكر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101095
تاریخ24-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں