بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیورات رہن رکھ کر اس کے بدلہ اجرت لینا

سوال

زید نے زیورات گروی رکھا500میں بکر کے پاس اور بکر ‌نے کہا زیورات کے حفاظت کے عوض میں 200روپیہ ہر ماہ دینا ہو گا اس پر دونوں شخص راضی ہو گئے تو یہ معاملہ صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں بکر کا گروی زیورات کے عوض رقم لینا شرعا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ گروی میں رکھے ہوئے زیور کی حفاظت کرنابکر  پر لازم  ہے، کیونکہ بکر  مرتہن کے درجہ میں ہے، اور مرتہن پر مال رہن کی حفاظت لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو استقرض دراهم و سلم حمارہ إلی المقرض لیستعمله إلی شهرین حتى یوفیه دینه أو دارہ لیسکنها فهو بمنزلة الإجارۃ الفاسدۃ."

(کتاب الرہن جلد 4 ص: 482 ط: سعید )

وفیہ ایضا:

"لایحل للمرتهن أن ینتفع بشیئ منه بوجه من الوجوہ و إن أذن لہ الراهن لأنه اذن له في الربا لأنه یستوفي دینه کاملا فتبقی له المنفعة فضلا فتکون ربا وهذا أمر عظیم."

(کتاب الرہن جلد 4 ص: 482 ط: سعید )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101022
تاریخ24-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں