بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خاص دعا کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص یہ دعا کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں کسی لڑکی سے اس کا نکاح کروادیں تو یہ دعا کرنا جائز ہے؟ یا یہ دعا کرے کہ اس کا رشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طے  کر کے خواب میں اس کو بتا دیں ؟  اگر یہ دعا کر نا جائز  اور صحیح ہے، تو اس کے لیے کوئی خاص عمل بتا دیں؟

جواب

واضح رہے کہ اس طرح کی دعا کرنا عبث اور بے فائدہ ہے ،کیونکہ خواب میں ہونے والے نکاح یا رشتہ طے کرانے سے شرعاً کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا، لہذا بجائے اس دعا کے   ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے جو  احادیث میں منقول ہیں اور انسان کی ضرورت ہے ،مثلاً حضور  صلی اللہ علیہ وسلم   کی محبت ،اطاعت ،جنت میں رفاقت اور شفاعت کی دعا کی جائے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ‌أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لكل نبي دعوة مستجابة يدعو بها، وأريد أن أختبئ دعوتي شفاعة لأمتي في الآخرة."

(کتاب الدعوات،باب لکل نبی دعوۃ مستجابۃ،67/8،ط:مکتبہ  سلطانیہ مصر)

مرقاة المفاتيح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"ولذا ‌لم ‌يعتبر ‌أحد من الفقهاء جواز العمل في الفروع الفقهية بما يظهر للصوفية من الأمور الكشفية، أو من الحالات المنامية."

(کتاب الفتن ،باب اشراط الساعۃ،3444/8،ط:دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310101010
تاریخ24-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں