بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

"فیھا" نام رکھنا درست نہیں ہے؟

سوال

"فیھا"  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ناموں کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ نام ایسا رکھا جائے جس کا معنیٰ عمدہ ہو؛ اس لیے کہ نام کے اچھا اور بامعنیٰ ہونے کا انسان کی شخصیت پر اثر پڑھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ  اچھے نام رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بچوں کے نام انبیاءِ عظام علیہم الصلوات والتسلیمات اور صحابہ کرام علیہم الرضوان  کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے  اور بچیوں کے نام امہات المؤمنین اور دیگر صحابیات رضی اللہ عنھن کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کر کے رکھا جائے۔ 

صورتِ  مسئولہ میں  "فیھا  "  کوئی نام نہیں ہے بلکہ "فی " حرف ہے اور "ھا" ضمیر ہے،جس کا مطلب ہے' اس کے اندر'  یہ نام  رکھنا درست نہیں ہے۔

  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100892
تاریخ22-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں