بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی سے بیوہ کا حق وراثت ختم نہیں ہوتا

سوال

شوہر کا انتقال ہوا ہے ، انہوں نے ورثاءمیں بیوہ ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہے ، وراثت کی تقسیم سے قبل بیوہ نےدوسری شادی کرلی ،کیا وہ اپنے پہلے وفات شدہ شوہر کی وراثت میں حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ بیوہ عورت جب عدت کے بعددوسرے شخص سے نکاح کرلےتو اس کی وجہ سےبیوہ اپنے مرحوم شوہرکی وراثت  سے محروم نہیں ہوتی ، کیوں کہ نکاح ِ جدیدموانع ِ ارث میں سے نہیں ہے۔لہذاصورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیوہ عورت جس نے تقسیم وراثت سے قبل شادی کی ہے ،اپنے مرحوم شوہرکی وراثت میں حصہ دار ہوگی،اُسے محروم کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔

السراجی فی المیراث میں ہے:

" المانع من الإرث أربعة : الرق ... و القتل واختلاف الدينيين واختلاف الدارين." 

(السراجي في الميراث، فصل في الموانع ، ص : 5ط: الميزان ، لاهور)

 فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100868
تاریخ22-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں