بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع یافتہ عورت کی عدت کےشروع ہونےوالے دن کی تعیین

سوال

میں نے عدالت میں تنسیخ نکاح کا کیس کیا تھا ، ایک ماہ پہلے عدالت نے ڈگری جاری کر دی تھی  اور مجھ سے اور میرے شوہر سےاس پر  دستخط بھی کروا لیے تھے ۔ساتھ ہی عدالت نے کہا ہے کہ حق مہر کے 10 تولہ سونا میں سے 7.5 تولہ سونا لڑکی رکھے گی اور 2.5 تولہ شوہر کے پاس ہو گا ۔ ابھی تک یہ 2.5 تولہ میں نے شوہر کو ادا نہیں کیا تو کیا میری عدت شروع ہو گئی، یا جب میں ادا کروں گی تب شروع ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ جس دن  شوہر نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر  دستخط کیے تھے اسی وقت  سائلہ پر طلاق واقع ہوگئی تھی اور اسی وقت سے اس کی  عدت کے ایام شروع ہوچکے ہیں۔عدت کا آغاز مہر کا کچھ حصہ واپس کرنے پر موقوف نہیں ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، و في الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية".

(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی  العدة، 1 / 532،رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100842
تاریخ22-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں