بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم پر ملنے والے منافع کا حکم

سوال

ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے رقم ملی، میں نے وہ بینک کے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ اکاؤنٹ میں جمع کی، جس سے ہمیں نفع ملتا ہے، کیا یہ منافع جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کو مذکورہ اکاؤنٹ سے منافع کے نام جو رقم مل رہی ہے وہ شرعاً سود کے حکم میں ہے اور شریعت کی رو سے سودی لین دین ناجائز اور حرام ہے، لہذا سائل کو چاہیے کہ اس اکاؤنٹ سے اپنی جمع کردہ خالص رقم جو ریٹائرمنٹ کے وقت ملی تھی اس کو نکال کر اس اکاؤنٹ کو بند کردے یا پھر چھوڑدے، اور اب تک جو رقم منافع کے نام پر استعمال کی،اتنی رقم صدقہ کردے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: ‌لعن ‌رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء".

(‌‌كتاب البيوع‌‌، باب الربا‌‌، الفصل الأول: 244، ط: قدیمی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100802
تاریخ21-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں