بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیس بک بزنس پیج کی خرید وفروخت کاحکم

سوال

آج کل فیس بک بزنس پیج مارکیٹ میں فروخت کیے جاتے ہیں،  جن میں کافی سارے گاہکوں کی تفصیل موجود ہوتی  ہے،  جس کی  بنا پر اس کو خریدا بیچا جاتا ہے، کیا اس طرح فیس بک کے بزنس پیج کو جس پر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں دیکھنے والے موجود ہو اور وہ لوگ اپنا وقت خرچ کرکے اور اس پر ایک بڑی خطیر رقم لگا کر جمع کیے جاتے ہیں تو آیا اس کا بیچنا یا خریدنا شرعاً کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی بھی چیز کی خرید وفروخت کے لیے اس چیز کا درحقیقت خارج و نفس الامرمیں  موجود ہونا لازمی ہے،  اور جوچیز خارج میں موجود نہ ہو شرعاً اس کی بیع جائز نہیں ہے، صورتِ مسئولہ میں جو "فیس بک بزنس پیج" ہے اس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے،  بلکہ یہ ایک  حیثیتِ عرفیہ  ہے ، اس فیس بک پیج کی قیمت یہ کہہ کر مقرر کرنا اور مہنگی داموں اس کی خرید وفروخت کرناکہ اس کے دیکھنے والے  ہزاروں  لاکھوں میں موجود ہیں ، یہ شرعاً  جائز نہیں ہے، لہٰذا اس کے عوض رقم لینا یا اس کی قیمت مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔

الاشباہ والنظائر لابن نجیم میں ہے:

"الحقوق المجردة لا يجوز الاعتياض عنها،كحق الشفعة؛ فلو صالح عنه بمال بطلت ورجع به ولو صالح المخيرة بمال لتختاره بطل ولا شيء لها، ولو صالح إحدى زوجتيه بمال لتترك نوبتها لم يلزم ولا شيء لها".

(الفن الثانی،کتاب البیع،ص:178،ط:دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100699
تاریخ19-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں