متولی کی اجازت کے بغیر نئی انتظامیہ رجسٹرڈ کروانے کا حکم
سوال
جواب
واضح رہے کہ اگر مسجد کا بانی و واقف موجود ہے توسب سے پہلےمتولی بننے کا حق دار وہ خود ہوتا ہے، اور اگر کسی اور کو متولی بنانا ہو، یا مسجد کے لیے انتظامیہ بنانی ہو تو اس کا اختیار بھی اولاً واقف اور بانی کو ہے، اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو متولی مقرر کرنا یا نئی انتظامیہ بنانا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر واقف نا اہل ہو یا اس کی جانب سے مسجد كے انتظام ميں خیانت کی گئی ہو تو صرف اس صورت میں قاضی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اس کی جگہ کسی اور کو متولی مقرر کردے، لیکن چوں کہ صورتِ مسئولہ میں واقف نے آخر میں اہلِ محلہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کسی کام میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے؛ لہٰذا مسجد کے انتظام اور تولیت کے وہی حق دار ہیں، اور اہلِ محلہ کےلیے واقف کی اجازت کے بغیر مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر نئی انتظامیہ رجسٹرڈ کروانا شرعاً درست نہیں تھا ،تاہم اگر وقف کرنے والے متولی کو راضی کرلیں تو درست ہوجائے گا ورنہ مسجد کے واقف کو ہی مسجد کا انتظام سنبھالنے دیں، اور مسجد کا انتظام چلانے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہیں۔ مسجد اللہ کا گھر ہے ، ہر ایک اس کی خدمت کا جذبہ رکھے، اسے اپنی ذاتی ملکیت نہ سمجھا جائے اور علاقے کے لوگ ضروری کام کروانا چاہیں تو متولی منع نہ کرے۔
الفتاویٰ العالمگیریہ میں ہے:
"رجل بنى مسجدا وجعله لله تعالى فهو أحق الناس بمرمته وعمارته وبسط البواري والحصر والقناديل، والأذان والإقامة والإمامة إن كان أهلا لذلك فإن لم يكن فالرأي في ذلك إليه. كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الصلاة، الباب الثامن في الوتر، ج:1، ص:110، ط: دار الفكر)
رد المحتار میں ہے:
"(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف درر فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح أو كان يصرف ماله في الكيمياء نهر بحثا (وإن شرط عدم نزعه) أو أن لا ينزعه قاض ولا سلطان لمخالفته لحكم الشرع فيبطل كالوصي، فلو مأمونا لم تصح تولية غيره أشباه."
(كتاب الوقف، ج:4، ص:380-381-382، ط:ايچ ايم سعيد)
تقریرات رافعی میں ہے:
"الذي حققه السندي بعبارة طويلة: ( أن الوصي أو المتولي المنصوب من الواقف أو القاضي لو لم يتحقق من أحدهما خيانة، و أراد من عدا قاضي القضاة عزله، و إقامة غيره مقامه ممن هو أصلح منه و أورع فليس له ذلك، ولا يتولي ذلك إلا قاضي القضاة)."
(كتاب الوقف، ج:13، ص:499،ط: دار الثقافة و التراث)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

