بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدکوبچےکی ملاقات سےروکنا

سوال

میں نےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دی تھیں۔ اس کےبعدمیراایک بچہ ہےجوپانچ سال کاہےوہ میری مطلقہ بیوی کےپاس ہےاس کی ماں ،دادا اوردادی مجھےبچےسےملنےنہیں دیتےہیں،عیدکےموقع پربھی ملنےنہیں دیا،کیاعورت کےلیےاس طرح کرناجائزہے؟

نیزباپ کواپنےبیٹےسےملنےکےلیےکیاکچھ کرنےکی اجازت ہے؟

جواب

واضح رہےکہ سائل اپنےبیٹےسےملاقات کرسکتاہے، کسی کےلیےجائز نہیں ہے کہ اس کوملاقات سےروکے،بصورتِ دیگرملاقات سےروکنےوالے گناہ گارہوں گے،سائل کوچاہیےکہ دونوں خاندانوں کےبزرگ اورسنجیدہ لوگوں کوبٹھاکراپنےمسئلےکامناسب حل اورملاقات کےلیےباہمی رضامندی سےوقت طےکرےتاہم اگرکسی بھی طریقےسےبات نہ بنےتوسائل کےلیےقانونی کاروائی کرنےکی اجازت ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."

(کتاب الطلاق ،الباب السادس عشر  فی الحضانہ ،ج:1،ص:543،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100399
تاریخ15-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں