بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منگیتر کو طلاق کے الفاظ کہنا

سوال

میرا ابھی شرعی نکاح نہیں ہوا، منگیتر سے کسی بات پر لڑائی ہوئی ، میں نے اسے کہا " تم مجھ سے آزاد ہو" ایک دوسری جگہ دوست کے ساتھ بات کر رہا تھا تو میں نے کہا کہ اگر نکاح نہ ہوا ہو اور منگیتر سے لڑائی  ہو جاۓ تو بندہ ڈرتا ہے(ڈرنے سے مطلب تھا کہ کہیں رشتہ خراب نہ ہو جاۓ. پھر کہا کہ اگر بندے کا نکاح ہو جاۓ اور پھر لڑائی ہو جاۓ تو بندہ کہہ سکتا ہے "چلو "چلو سے مطلب تھا (کہ نکاح کے بعد جو مرضی ناراض ہو کہیں جا نہیں سکتی) الفاظ صرف چلو تک بولے  تھے مستقبل میں اسی منگیتر کے ساتھ میرے نکاح پر   کوئی اثر تو نہیں پڑے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ جملہ(تم مجھ سے آزاد ہو،چلو،چلو) کی وجہ سے سائل کے نکاح پر کوئی  اثر نہیں پڑے گا ؛اس لیے کہ مذکورہ لڑکی  سائل کی منکوحہ نہیں ہے،اور طلاق منکوحہ کو دی جاتی ہے ،غیر منکوحہ کو نہیں  ۔

فتح القدیر میں ہے :

"و شرطه في الزوج أن يكون عاقلًا بالغًا مستيقظًا، و في الزوجة أن تكون منكوحته أو في عدته التي تصلح معها محلًّا للطلاق."

(کتاب الطلاق،ج:۳،ص:۴۶۳،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100354
تاریخ15-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں