بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ تولہ سونا پر زکوۃ کا حکم

سوال

ایک خاتون خانہ کی ملکیت میں تقریبا پانچ تولے سونا موجود ہے لیکن نقد رقم جمع شدہ کچھ نہیں، جیب خرچ اور گھر کے اخراجات میں رقم اس کے پاس آتی ہے اور خرچ ہوتی رہتی ہے، کیا اس صورت میں خاتون خانہ کو زکوۃ دینی ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں خاتون کے پاس پانچ تولے سونے کے علاوہ چاندی یا نقد رقم موجود نہیں ہے تو شرعا خاتون کے ذمہ زکوۃ کی ادائیگی واجب نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"نصاب الذهب عشرون مثقالا۔ قال ابن عابدین: (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه."

(‌‌‌‌كتاب الزكاة، باب زكاة المال: 2/ 295، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144310100175
تاریخ11-05-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں