بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں ورزش کرنے کا حکم

سوال

قبرستان میں ورزش کے لیے ٹہلنا اور دوڑنا کیسا ہے؟

جواب

حدیث شریف میں قبرستان میں قبروں سے گزرنے اور اُس پر بیٹھنے وغیرہ سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ اِس طرح کی حرکتوں سے میت کی بے حرمتی لازم آتی ہے،نیز حدیث شریف میں قبرستان میں قبروں کے دیکھنے کو موت کو یاد دلانے والی چیز قراردی گئی ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ قبرستان میں جانے والے شخص پر آخرت کی یاد کا غلبہ ہونا چاہئے، اور لہو ولعب اور کھیل کود کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے، لہٰذا قبرستان میں محض ورزش کے لیے ٹہلنا اور خاص کر قبروں پر سے گزرنا قبروں کی بے حرمتی کی وجہ سے مکروہ ہے، جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن ابن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " «كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإنها تزهد في الدنيا، وتذكر الآخرة» ". رواه ابن ماجه.

(وعن ابن مسعود - رضي الله عنه - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم  قال: " كنت نهيتكم عن زيارة القبور ") أي مطلقا (فزوروا) وفي نسخة: فزوروها (فإنها) أي زيارة القبور أو القبور أي رؤيتها (تزهد الدنيا) فإن ذكر الموت هادم اللذات، ومهون الكدورات، ولذا قيل: إذا تحيرتم في الأمور فاستعينوا بأهل القبور، هذا أحد معنييه (وتذكر الآخرة) وتعين على الاستعداد لها (رواه ابن ماجه) ".

(کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ج:4، ص:1259، ط:دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في الفتح: ويكره الجلوس على القبر، و وطؤه".

(کتاب الصلوۃ، باب الجنائز، مطلب في زيارة القبور، ج:2، ص:245، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101352
تاریخ23-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں