بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شفان نام رکھنے کا حکم

سوال

 شفان نام رکھنا کيسا ہے؟

جواب

شَفَّان کا معنی ہے: بارش والی ٹھنڈی ہوا، مذکورہ معنیٰ کے اعتبار سے بچے کا نام شفان رکھنا درست ہے، تاہم بچے کا نام مذکورہ نام پر رکھنے کے بجائے اگر انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام پر رکھاجائے تو بہتر وافضل ہے، ہماری ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کے لحاظ سے مستقل عنوان موجود ہے وہاں سے آپ اپنی مرضی کے مطابق پسندیدہ نام کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔

تاج العروس من جواہر القاموس میں ہے:

"(و) الشفان : الريح الباردة مع مطر ، يقال : هذه غداة ذات شفان ، أي : ذات برد وريح ، وكذا قولهم : إن في ليلتنا هذه شفانا شديدا ، أي : بردا ، قال : إذا اجتمع الشفان والبلد الجدب وقال عدي بن زيد العبادي : ( في كناس ظاهر يستره من عل الشفان هداب الفنن )  أي : من الشفان ".

(فصل الشين مع الفاء، ش/ف/ف، ج:23، ص:485، ط:دارالهدایة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101302
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں