بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی حالت میں بیٹے سے پردہ

سوال

کیا ماں، اعتکاف میں اپنے بیٹے سے پردہ كرے گی؟

جواب

واضح رہے کہ عورت کے اعتکاف کے لیے مختص کی گئی جگہ عورتوں کے حق میں  ایسی ہے جیسے مردوں کے لیے مسجد ہے، عورت کے لیے اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہے،  البتہ اعتکاف کی جگہ کے اندر رہتے ہوئے خیر وبھلائی  یا  ضرورت کی بات چیت  کرنا ، یا محرم رشتہ داروں سے ملاقات کرنا جائز ہے۔

لہذا  صورت مسئولہ میں  بیٹا چوں کہ  محرم ہے، اور   جس طرح ماں کا بیٹے سے  اعتکاف سے باہر پردہ نہیں ہے، اسی طرح اعتکاف کی حالت میں بھی پردہ نہیں ہے، اعتکاف کی حالت میں بیٹے سے ملاقات کرنا جائز ہے ۔

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها، إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل، لاتخرج منه إلا لحاجة الإنسان، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي".

 (1/ 311، الباب السابع فی الاعتکاف، ط: مکتبه حقانیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101296
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں