بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

میری والدہ وفات پا گئی ہیں اور ان کا ایک مکان ہے اُس مکان کی تقسیم کا طریقہ کار  درکار ہے۔

ورثاء میں شوہر ،  4 بیٹے اور  3 بیٹیاں  ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی   اگر مرحومہ پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی  میں نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 44 حصوں میں تقسیم کرکے، 11 حصے  مرحومہ کے شوہر کو، 6 حصے کرکے  ہر ایک بیٹے کو، اور 3 حصے کرکے  ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے

میت: 4 / 44

شوہر بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
1 3
11 6 6 6 6 3 3 3

یعنی 100 روپے میں سے 25 روپے مرحومہ کے شوہر کو، 13.63  روپے کرکے  ہر ایک بیٹے کو، اور 6.81  روپے کرکے  ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101286
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں