بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر میں امام کے پیچھے مقتدی دعائے قنوت بھی پڑھے گا

سوال

رمضان المبارك میں وتروں میں مقتدی دعاۓقنوت کیوں پڑھتے ہیں؛ حالانکہ وہ امام کی اقتدا میں ہوتے ہیں؟

جواب

وتر میں دعائے قنوت امام اورمقتدی دونوں پرپڑھنا واجب ہے، جیساکہ قعدے میں تشہد پڑھنا امام اور مقتدی دونوں پر واجب ہے۔ امام کی قراءت کے دوران خاموش رہنے کا حکم صحیح حدیث میں ہے، نیز قرآن شریف میں بھی قراءت کے دوران خاموش رہنے کا حکم ہے، اس لیے امام کی اقتدا میں صرف قراءت کرنا منع ہے، باقی تمام اَذکار مقتدی بھی پڑھے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والقنوت واجب على الصحيح. كذا في الجوهرة النيرة إذا فرغ من القراءة في الركعة الثالثة كبر ورفع يديه حذاء أذنيه، ويقنت قبل الركوع في جميع السنة.......والمختار في القنوت الإخفاء في حق الإمام والقوم. هكذا في النهاية."

(الفتاوى الهندية،کتاب الصلاۃ،الباب الثامن فی صلاۃ الوتر،1/ 111،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101284
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں