بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک واقع شدہ کام پر طلاق کو معلق کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو  کسی ایسے کام پر معلق کرے جو وہ شخص پہلے کر چکا ہو، کہ اگر میں نے یہ کام کیا ہو تو تم مجھ پر طلاق ہوگی۔ ایسی صورت حال کے مطابق رہنمائی فرمائیں ۔ 

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص جس نے اپنی بیوی کی طلاق کو اس طرح معلق کیا ہو کہ اگرمیں نے یہ کام کیا ہو توتم مجھ پر طلاق ہوگی، اور جس کام پر طلاق کو معلق کیا تھا وہ کام  پہلے ہی کر چکا ہو تو یہ الفاظ ادا کرتے ہی اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی، اور عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک)  کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوگا، اور  عدت گزر جانے کے بعد عورت بائنہ ہوجائے گی اور دوبارہ نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا. اور دوبارہ نکاح کی صورت میں شوہر کو مزید دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود؛ فالمحقق كإن كان السماء فوقنا تنجيز."

وفي الشامية تحته:

"قوله على خطر الوجود) أي مترددا بين أن يكون وأن لا يكون لا مستحيلا ولا متحققا لا محالة لأن الشرط للحمل والمنع وكل منهما لا يتصور فيهما شرح التحرير."

(كتاب الطلاق، ج:3،  ص:342، ط:سعيد)

الدرالمختار  ميں ہے:

"(‌وينكح ‌مبانته ‌بما ‌دون ‌الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:409، ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101280
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں