بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کو صدقہ فطر دینا

سوال

کیا بھائی کوفطرانے کی رقم دی جاسکتی ہے؟

جواب

اگر سائل کا بھائی مستحق زکاۃ ہے(یعنی  نہ  وہ صاحب نصاب ہے اور نہ ہی اس کے پاس ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہے جس کی مالیت نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت  تک پہنچے،اوروہ بنی ہاشم (سید  یا عباسی وغیرہ) میں سے نہیں ہے)تو اسے صدقہ فطر دے سکتے ہیں،البتہ اگر بھائی کا کھانا پینا سائل کے ساتھ مشترکہ ہو  تو یہ رقم وہ اس کھانے پینے میں استعمال نہ کرے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومصرف هذه الصدقة ما هو مصرف الزكاة كذا في الخلاصة."

(کتاب الزکاۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج1،ص194،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101271
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں