بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا بچوں کو قرآن کی تعلیم دینا

سوال

کیا اعتکاف میں بیٹھا شخص بچوں کو قرآن پڑھا سکتا ہے؟ 

جواب

معتکف کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر تعلیم دینا یا بچوں کو پڑھانا مکروہ ہے، اور بغیر اجرت کے اللہ کی رضا کے لیے تعلیم دینا جائز اور ثواب کا کام ہے، البتہ اگر معلم اعتکاف میں بیٹھا ہو اور اس کا گزارا صرف تعلیم پر ہی ہوتا ہو اس کے علاوہ اس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے یا وہ مدرسہ کا تنخواہ دار ملازم ہے اور اسے وہاں سے چھٹی نہیں مل رہی یا کوئی اور مجبوری ہے ایسے شخص کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر تعلیم دینے کی گنجائش ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

" قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة."

(فرع یکرہ اعطاء سائل المسجد، ج:۶، ص:۴۲۸ ،ط:سعید)

فتاوی بزازیہ میں ہے :

"معلم الصبیان بأجر لو جلس فیه لضرورۃ الحر لا بأس به، وکذا التعلیم إن بأجر کرہ إلا للضرورۃ وإن حسبة لا."

(بزازیۃ علی ہامش الہندیۃ، کتاب الصلاۃ ،ج: ،۴ص:۸۲،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101242
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں