بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دس دن سے زیادہ خون آنے کی صورت میں نماز روزے کا حکم

سوال

پندرہ دن کی پاکی کے بعد چھ دن حیض آیا، اس کے بعد اٹھارہ دن کی پاکی کے بعد چودہ دن خون آیا، کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی عورت کے حیض کی عام عادت چھ دن ہو پھر کسی مہینے اسے  دس دن سے بھی زیادہ خون آیا تو اس عورت کو اپنی سابقہ عادت کی طرف لوٹایا جائے گا، یعنی چھ دن اس کے حیض شمار ہوں گے اور باقی استحاضہ کے، استحاضہ کے دنوں میں روزہ بھی رکھے گی اور نماز بھی پڑھے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

''انتقال العادة يكون بمرة عند أبي يوسف، وعليه الفتوى. هكذا في الكافي.

فإن رأت بين طهرين تامين دماً لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معاً انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقياً كان الدم أو حكمياً، هذا إذا لم يجاوز العشرة، فإن جاوزها فمعروفتها حيض وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة، هكذا في محيط السرخسي''.

(کتاب الطہارۃ، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، 39/1/ دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101234
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں