بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماضی میں مخلوط تعلیم میں پڑھنے والے کی امامت کا حکم

سوال

اگر کسی شخص نے دو سال پہلے مخلوط تعلیم گاہ سے علم حاصل کیا،  ابھی وہ مخلوط تعلیم گاہ نہیں جاتا ہے،  گھر ہی میں رہ کر پڑھتے ہیں، کیا اِس شخص کی امامت میں کوئی کراہت ہے؟

جواب

 کسی ایسے ادارے میں پڑھنا جائز نہیں جہاں  مخلوط ماحول میں تعلیم دی جاتی ہو؛ کیوں کہ اس میں   نامحرم عورتوں سے میل جول رکھنے کی نوبت آتی ہے، لہٰذا  ایسا امام جو مخلوط تعلیمی نظام والے ادارے میں پڑھتا ہو اس کو امام بنانا اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگر کوئی شخص ماضی میں ایسے مخلوط نظام میں پڑھا ہو لیکن اب نہیں پڑھتا، اور سابقہ عمل سے توبہ کر کے اس کو ترک کر چکا ہو تو ایسی صورت میں اس کو امام بنانے میں کوئی کراہت نہیں ہو گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويكره إمامة عبد) ... (وفاسق).

 (قوله: وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل".

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، 1/ 559 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101233
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں