بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتكاف ميں موبائل كا استعمال

سوال

  اگر بندہ اعتکاف میں ہوں تو ایمرجنسی کی صورت میں فون یا واٹس ایپ چلا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

اعتکاف کا مقصد اللہ تعالی کا قرب  حاصل کرنا ،  ہر طرف سے یک سو  ہو کر اس کی عبادت میں مشغول رہنا  اور اس سے  تعلق جوڑنا ہے، ایک متعین وقت کے لیے  دنیا کی رنگارنگی سے کنارہ کش ہوکر  صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ  سے خلوت اور تنہائی میں لو لگانا ہے،  اعتکاف کے دوران موبائل کا استعمال  اس مقصد کے حصول میں رکاوٹ ہے، لہذا اعتکاف کے دوران بلاضرورت موبائل فون کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، ضرورت کےو قت فون پر بات چیت کرلینا جائز ہے۔

الدر المختار  ميں ہے:

"(وخص) المعتكف (بأكل وشرب ونوم وعقد احتاج إليه) لنفسه أو عياله فلو لتجارة كره (كبيع ونكاح ورجعة)"......و في الرد:"(قوله: فلو لتجارة كره) أي وإن لم يحضر السلعة، واختاره قاضي خان، ورجحه الزيلعي؛ لأنه منقطع إلى الله تعالى فلاينبغي له أن يشتغل بأمور الدنيا، بحر".

(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصوم، باب الاعتكاف، 448/2، سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101224
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں