بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم سے جنازہ گاہ تعمیرکرنا

سوال

زکوۃ  کی رقم سے جنازگاہ تعمیر کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

  واضح رہے کہ شرعی نقطہ نظرسےزکوٰۃ اورصدقات واجبہ  کسی مستحق کومالک بناکردیناضروری ہے۔لہذا جنازہ گاہ کی تعمیرمیں زکوۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں مالک بننے  کی صلاحیت نہیں ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

''هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه.''

(البحرائق ،کتاب الزکوۃ،۲/ ۲۱۶،ط:دارالمعرفۃ بیروت)

            فتاوی شامی میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة كما مر(لا) يصرف ( إلى بناء ) نحو مسجد.

وفی الرد:قوله ( نحو مسجد ) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكرى الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه."

(الدرالمختارمع ردالمحتار كتاب الزكاة،باب المصرف ۲/۳۴۴ ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101219
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں