بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کا وقت گزرنے کے بعد تراویح کی قضا نہیں

سوال

تراویح کی بیس رکعات غلطی سے چھوڑدیں تو اب اس کو قضا کب کرنا ہے ، کیسے کرنا ہے اور کس وقت کرنا ہے؟

جواب

تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر تک ہے، اگر کوئی شخص وقت کے اندر تراویح نہ پڑھ سکا تو اس پرتراویح کی قضا لازم نہیں،صرف توبہ واستغفار کرے۔

الدر المختار میں ہے:

"(و وقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر وبعده) في الأصح، فلو فاته بعضها، وقام الإمام إلى الوتر أوتر معه، ثم صلى ما فاته."

(الدر المختار: كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، (2/ 44) ط: دار الفكر، بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101216
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں