بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہانہ تنخواہ پر زکوۃ واجب ہونے کا حکم

سوال

میں ایک ہسپتال میں نوکری کرتا ہوں، جسکی مجھے ماہانہ (31000) ہزار تنخواہ ملتی ہے، مجھے نوکری کو ( 19) مہینے ہوگئے،  اب میں اپنی تنخواہ سے کسطرح زکواۃ ادا کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل سے مذکورہ تنخواہ کی رقم ماہانہ خرچ ہوجاتی ہے، کچھ بچتا نہیں یا کچھ بچتا ہے، لیکن وہ رقم نصاب کے برابر نہیں اور سائل کسی اور قابلِ زکاۃ مال (سونا، چاندی، مالِ تجارت) کے اعتبار سے بھی صاحبِ نصاب نہیں تو سائل پر مذکورہ تنخواہ کی وجہ سے زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔ 

اور اگر سائل پہلے سے صاحبِ نصاب تو نہیں ہے، لیکن تنخواہ کی رقم میں سے اخراجات (مثلاً رواں مہینے کے راشن اور یوٹیلیٹی بلز)کے بعد بچت ہوتی ہے، تو اگر یہ رقم نصاب زکوۃ یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت (2022/ 4/ 24)  جو  اٹھاسی ہزار آٹھ سو  بیاسی (88,882) روپے بنتے ہیں، کے برابر ہو یا اس سے زیادہ ہو اور چاند کے اعتبار سے سال پورا ہونے پر بھی مذکورہ نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مالِ زکاۃ موجود ہو تو سال پورا ہونے کے بعد زکاۃ واجب ہوگی۔

اور اگر سائل پہلے سے صاحبِ نصاب ہے یعنی زکاۃ دیتا چلا آرہا ہے تو  اس صورت میں زکاۃ کی ادائیگی کے دن اگر تنخواہ کی رقم میں سے جتنی رقم (بنیادی اخراجات سے زائد) محفوظ ہوگی اس رقم کو مجموعی مال کے ساتھ ملائیں گے اور زکاۃ ادا کریں گے۔اور تنخواہ کی رقم میں سے جس قدر رقم خرچ ہوگئی ہو اس پر زکاۃ نہیں ہے، نیز زکاۃ کی ادائیگی کی تاریخ تک جو واجب الادا قرض یا بل ہو وہ اس میں سے منہا کیا جائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و لیس في دور السکنی و ثیاب البدن و أثاث المنازل و دوابّ الرکوب و عبید الخدمة و سلاح الاستعمال زکاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلیة ولیست بنامیة".

(کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:262،کتاب الزکوۃ، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101189
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں