بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد اور مدرسہ کے مال پر زکوۃ

سوال

کیا مسجد کے مال پر،مدرسہ کے یا قومی کمیٹی کے مال پر زکوٰۃ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو رقم  چندہ یا عطیہ کے طور پر کسی کارِ خیر میں دی جاتی ہے وہ  چندہ یا عطیہ  دینے والوں کی ملکیت سے خارج ہوجاتی ہے اور  لہذا اس  رقم  پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی ميں ہے:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) ۔۔۔۔۔۔۔ فلا زكاة في ‌سوائم ‌الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك."

(كتاب الزكوة، 259/2/ سعيد)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"سوال:اگر کسی مسجد یا مدرسہ کی رقم نصاب کو پہنچ گئی، سال بھر گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟

جواب: مدرسہ یا مسجد کے پاس جب رقم بقدرِ نصاب ہو تو اس میں زکوۃ لازم نہیں۔"

(کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ، 326/9 ط: فاروقیہ)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101179
تاریخ22-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں