بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض مرجائے اور کوئی وارث نہ توقرض کا مطالبہ کس سے کیا جائے ؟

سوال

اگر کوئی غیرمقلد شخص قرض لے کر مر جائے اور کوئی وارث نہ ملے تو کیا کیا جائے؟

جواب

صورت میں جب مقروض کا کوئی وارث معلوم نہیں اور تلاش کے بعد بھی نہیں مل رہا ہے تو قرض دہندہ کو کسی سے مطالبہ کا حق نہیں، البتہ اگر مقروض کے قرض واپس لوٹانے کی نیت تھی، لیکن وہ کسی عذر کی وجہ سے ادا نہیں کر سکا تو امید ہے کہ اس سے آخرت میں مواخذہ نہیں ہوگا،قرض خواہ کا معاف کرنا بھی باعث اجر و ثواب ہے،معاف کر کے ثواب حاصل کرے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"رجل مات وعليه قرض ذكر الناطفي نرجو أن لا يكون مؤاخذا في دار الآخرة إذا كان في نيته قضاء الدين كذا في خزانة المفتين۔"

(کتاب الکراہیۃ، ص:366، ج:5، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101168
تاریخ21-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں