بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکستانی قریشیوں کوزکات دینا

سوال

کیا پاکستان میں موجود قریشی لوگ اگر مستحق ہوں تو ان  کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوة کی ادائیگی کے لیے جیسے یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو زکوة دی جائے وہ مستحق زکوة ہو ( نصاب کا مالک نہ ہو)  اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وه قریشی ، عباسی و غیره نہ ہو ، تاہم قریشی یا عباسی ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ نسباً قریشی یا عباسی وغیره ہو یعنی اس کا نسب بنو ہاشم کي کسی شاخ تک پہنچتا ہو ، بنوہاشم سےمراد حضرت علی ،حضرت عباس ،حضرت جعفر،حضرت عقیل اورحارث ابن عبد المطلب کی اولادہیں ،لہذا جس آدمی کا نسب بنو ہاشم کی کسی شاخ تک نہ پہنچتا ہو، بلکہ وه کسی اور وجہ سے عباسی ، قریشی یا ہاشمی کہلاتا ہو (جیسا کہ پاکستان میں قصائی لوگوں کو بھی قریشی کہا جاتا ہے اگرچہ نسباً وه قریشی نہیں ہیں ) تو ایسے شخص کو زکوة دینا جائز ہے،بشرطیکہ وہ مستحقِ زکوٰۃہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية."

(کتاب الزکاۃ ،الباب السابع فی المصارف،ج:1،ص:189،ط:المطبعۃ الکبریٰ)

وفیہ ایضاً:

"ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية."

(کتاب الزکاۃ ،الباب السابع فی المصارف،ج:1،ص:187،ط:المطبعۃ الکبریٰ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144309101157
تاریخ21-04-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں